147

ماں کے بغیر زندگی
ارسہ کنول سجاد /جہلم
ماں کا رشتہ وہ رشتہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی بن جاتا ہے اللہ تعالٰی نے ماں کو سب سے زیادہ حقوق سے نوازا ہے ایک بچہ سب سے زیادہ اعتماد اپنی ماں پر کرتا ہے اور اس کو سب سے زیادہ بھروسہ بھی اپنی ماں پر ہوتا ہےاور اس کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ایک انسان سب سے زیادہ اپنی آرزوؤں اور تمنا کا اظہار اپنی ماں کے سامنے کرتا ہے اس کو جو چیز چاہیے ہوتی ہے اس کا اپنی ماں کو بتاتا ہے اور ضد بھی کرتا ہے کیونکہ اس کو پتا ہوتا ہے اس کی ماں اس کی ضد کو ضرور پورا کریں گی اور اس کو اس کی پسند کی چیز ضرور لے کردیں گی
ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور ماں کے آنچل جیسی ٹھنڈی ہوا اس دنیا میں اور کہی نہیں ملتی اور جو سکون ماں کی گود میں ملتا ہے وہ کہی اور مل ہی نہیں سکتا۔۔۔۔
مگر جب یہ رشتہ ہم سے دور چلا جاتا ہے ہم کو اکیلا چھوڑ جاتا ہے ہم کو اکیلا کرکے اتنی دور چلا جاتا ہے کہ جہاں سے واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس معاملے میں انسان اتنا بےبس ہو جاتا ہے کہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتا ماں کے جاتے ہی انسان کی ساری دنیا بدل جاتی ہے ماں کی ٹھنڈی چھاؤں کا سایہ اٹھتے ہی زمانے کی کڑک دھوپ انسان کو جلانا شروع کر دیتی ہے ماں کے جاتے ہی یہ دنیا بےرنگ سی لگنے لگتی ہے دنیا کی ساری بہاریں ماں کے ساتھ ہوتی ہے جب ماں چھوڑ کر چلی جاتی ہے نا تو انسان جیتے جی مرجاتا ہے
ماں کی یاد انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر آتی ہے ماں کے دور جانے کے بعد جب ماں کی باتیں یاد آتی ہے تو چہرے پر پہلے اک مسکراہٹ آتی ہے اور پھر انسان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے کیونکہ انسان کو اس وقت سمجھ آتا ہے کہ اس کی ماں اس کو کیوں روکتی ٹوکتی تھی اس کو کیوں بولتی تھی کہ بیٹا ایسے نہیں ایسے کروںماں کے جانے کے بعد گھر سونا ہو جاتا ہے ماں کے چلے جاتے ہی گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے پتہ ہے جب ماں چھوڑ کر جاتی ہے نا تو کوئی خوشی خوشی نہیں لگتی اور ماں کے چھوڑ جانے کا غم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کوئی اور غم محسوس ہی نہیں ہوتا جب ماں ہوتی ہے تو ہم کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم غلط کررہے ہیں یا صحیح کیونکہ ہم کو پتا ہوتا ہے کہ اگر کچھ غلط کریں گے بھی تو ماں سب ٹھیک کر دے گی ماں کے بغیر زندگی ایسے لگتی ہے جیسے کوئی خشک صحرا ہو اور ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہوماں جب بیٹے کو گراتا دیکھتی ہیں تو بیٹا بسمہ لا کہنا شروع کر دیتی ہے اور اس کو اٹھا کر گلے لگا لیتی ہے مگر ماں کے بعد یہ لوگ انسان کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں اور انسان کو کبھی اٹھنے ہی نہیں دیتے
آخر پر آپ سب سے ایک درخواست ہے کہ جن کی مائیں اس دنیا سے جاچکی ہے ان کی مغفرت کے لیے دعا کیا کریں اور پڑھ کر ان کی روح کو ایصال ثواب پیش کیا کریں اور جن کی مائیں ابھی ان کے پاس ہے تو ان کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنی جنت کی خدمت کریں ان کا خیال رکھیں اور ان کو خوش رکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں