99

کشمیر توجہ چاہتا ہے
از قلم طاہرہ ثمرہ خان
مانسہرہ
تڑپتی ،بلکتی،سلگتی زندگی ہر طرف بکھری نظر آتی ہے ۔انسانوں کی اس بستی میں ظالم و جابر انسان ہی خدا بن بیٹھا ہے ۔ ماؤں کے لعل اپنے لال لہو سے دھرتی کو سیراب کئے چلے جا رہے ہیں لیکن یہ کیسا خراج ہے اس وادی کا جو وہ لئے چلی جا رہی ہے ۔ خون کی کیسی ہولی کھیلی جا رہی ہے کے چھوٹے بڑے سب دھرتی کو رنگیین کرنے میں مصروف ہیں مگر اس سرزمین کو رنگ پھر بھی نہیں میسر ہر طرف سیاہی کی حکمرانی ہے،سیاہ لوگ مالک بن بیٹھے ہیں۔ بیٹیاں اپنی عزتوں کی چادر تھامے یہاں وہاں چھپتی پھرتی ہیں اپنی زندگیاں عزتوں پر نثار کر ڈالتی ہیں مگر عزتیں محفوظ پھر بھی نہیں رہتیں ۔درندے عصمتوں کو نوچ ڈالتے ہیں ،چیر پھاڑ دیتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی ہوس کی پیاس نہیں بجھتی۔
میرے کشمیر کی گلیاں جلتی ہیں اور شہر سلگتے ہیں ۔لوگ تڑپتے ہیں اور وادی جنت نظیر مثل دوزخ جلتی ہے۔
درد کا کہیں کوئی درماں نہیں ہے۔ اپنے ہی ساتھی مسلماں بے حسی کی چادر اوڑے سو رہے ہیں۔
دنیا بھر کے امن کے رکھوالے آنکھیں،کان بند کئے منہ سر لپیٹے پڑے ہیں۔اگر کہیں کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو جائز حق کے لئے بھی ہاتھ لگا لے تو اس کو سزا دینے کے لئے یہ استعماری طاقتیں شہر کے شہر اور ملک در ملک تباہ کر دیتی ہیں ۔ لاکھوں انسانوں کے خون کی ندیاں بہا ڈالتی ہیں ۔ان کی یہ کیسی طلب ہے جو صرف مسلمانوں کا خاتمہ چاہتی ہے ۔مسلمانوں سے یہ اس قدر خوفزدہ ہیں کے کئی ملک تباہ وبرباد کر کے بھی ان کو سکون نہیں ملتا بلکہ مزید تباہیوں کے طریقے سوچے جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلانے کاکوئی نہیں سوچتا۔”اقوام متحدہ ” امن کا سب سے بڑا رکھوالا کشمیر کی آزادی کی قرارداد منظور کر کے بھی آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے۔ ہندو بنیا کشمیر وادی جنت نظیر میں خون کی ندیاں بہائے چلا جا رہا ہے ۔نہتے کشمیری گھروں میں محصور بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں ۔ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔
کشمیر توجہ چاہتا ہے ۔۔۔
دنیا کے مہذب انسانو ! کشمیر توجہ چاہتا ہے
کشمیر کے شہر سُلگتے ہیں ، کشمیر کی گلیاں جلتی ہیں
کشمیر کے درد کو پہچانو ، کشمیر توجہ چاہتا ہے
دنیا کے مہذب انسانو ! کشمیر توجہ چاہتا ہے
وہ دیس جسے تم لوگوں نے اس دہر میں یکتا مانا تھا
وہ دیس جسے کل تک تم نے اک خلد کا ٹکڑا مانا تھا
اُس دیس میں انساں کے ہاتھوں ، انسان پہ ظلم روا دیکھو
اُس جنتِ ارضی کو لوگو تم آج ذرا جلتا دیکھو !
اُس خلد کے پھول سلگتے ہیں ، اس باغ کی کلیاں جلتی ہیں
کشمیر کے شہر سُلگتے ہیں ، کشمیر کی گلیاں جلتی ہیں
تم مانو ، چاہے نہ مانو ، کشمیر توجہ چاہتا ہے
دنیا کے مہذب انسانو ! کشمیر توجہ چاہتا ہے
اس عہد میں انساں کے ہاتھوں انسان کی اتنی توہینیں
انسانوں کی آزادی کے پیمان کی اتنی توہینیں
انسان کے خُون کی ارزانی ، دیکھو تو سہی ، سوچو تو سہی
خون سستا ہے ، مہنگا پانی ، دیکھو تو سہی ، سوچو تو سہی
اُس دیس میں ہر صبح ، ہر شب کو دوزخ کی ہوائیں چلتی ہیں
کشمیر کے شہر سُلگتے ہیں ، کشمیر کی گلیاں جلتی ہیں
انسان کے درد کو پہچانو ، کشمیر توجہ چاہتا ہے
دنیا کے مہذب انسانو ! کشمیر توجہ چاہتا ہے
اس عہد میں بھی اُس دھرتی پر نُمرود کی شاہی چلتی ہے
ظالم کی عدالت لگتی ہے قاتل کی گواہی چلتی ہے
ہر ایک زباں پر پابندی ہر ایک نظر پر پہرا ہے
ہر نالہ ہے زنجیر وہاں ہر ایک فغاں پر پہرا ہے
ہر روز وہاں پر ظلمت کی تعزیریں آج بدلتی ہیں
کشمیر کے شہر سُلگتے ہیں ، کشمیر کی گلیاں جلتی ہیں
اُس دھرتی کے غم کو جانو ، کشمیر توجہ چاہتا ہے
دنیا کے مہذب انسانو ! کشمیر توجہ چاہتا ہے ​
شاعر(افتخار مغل)انتخاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں